13/05/2026
Carrying Poppy Seeds to GCC Countries
پاکستان میں خشخاش کے بیج عام طور پر کھانوں اور بیکنگ میں استعمال ہوتے ہیں اور یہ قانونی بھی ہیں۔ لیکن خلیجی ممالک میں یہی بیج ممنوعہ نشہ آور اشیاء میں شمار کیے جاتے ہیں، کیونکہ یہ افیون کے پودے سے حاصل ہوتے ہیں اور ان میں معمولی مقدار میں مورفین اور کوڈین جیسے اجزاء موجود ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے خلیجی ممالک میں خشخاش کے بیج لے جانا، اپنے پاس رکھنا یا غلطی سے سامان میں رہ جانا بھی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ چاہے مقدار بہت کم ہو، کسی کھانے میں شامل ہو یا صرف بیگ یا کپڑوں پر معمولی نشان کی صورت میں ہو، قانون اس میں کوئی رعایت نہیں دیتا۔ ان ممالک میں منشیات کے خلاف قوانین بہت سخت ہیں اور متعلقہ ادارے نیت کو دیکھے بغیر “زیرو ٹالرنس” پالیسی کے تحت کارروائی کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات میں 2021 کے انسدادِ منشیات کے قانون کے تحت خشخاش کے بیج کو باقاعدہ طور پر کنٹرول شدہ اشیاء میں شامل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بغیر اجازت انہیں رکھنا یا لے جانا سنگین جرم ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں بھی متعلقہ قانون کے تحت خشخاش کے بیج کو منشیات کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور اس حوالے سے قوانین نہایت سخت ہیں۔
ایسے قوانین کی خلاف ورزی پر عام طور پر فوری مقدمہ درج ہوتا ہے، بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، ملک بدری (ڈیپورٹیشن) کی جاتی ہے اور اکثر طویل مدت یا مستقل طور پر دوبارہ داخلے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ دیگر خلیجی ممالک میں بھی اسی نوعیت کے قوانین نافذ ہیں اور وہاں بھی خشخاش کے بیج کو غیر قانونی اشیاء تصور کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے افراد اور محنت کشوں کو روانگی سے پہلے مکمل آگاہی دینا انتہائی ضروری ہے۔ چونکہ ان ممالک میں قانون نیت کو اہمیت نہیں دیتا، اس لیے لاعلمی یا غلطی بھی سنگین قانونی مسائل پیدا کر سکتی ہے، جیسے گرفتاری اور ملک سے نکالا جانا۔