20/03/2026
جدید اکاؤنٹنگ اور سنتِ نبوی ﷺ – ایک توازن
تحریر: محمد مسعود (اکاؤنٹنٹ)
آج کی کارپوریٹ دنیا میں ہم MBA اور Accounting کی ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا کا سب سے بہترین "بزنس ماڈل" ہمیں 1400 سال پہلے مدینہ کے تاجدار ﷺ نے دے دیا تھا؟
بطور اکاؤنٹنٹ، جب میں Excel پر بیلنس شیٹ بناتا ہوں یا Busy Software میں انٹریز کرتا ہوں، تو مجھے حضور ﷺ کی تجارت کے یہ 5 سنہری اصول یاد آتے ہیں جو آج کے ہر پروفیشنل کے لیے مشعلِ راہ ہیں:
شفافیت (Full Disclosure): حضور ﷺ مال کا عیب پہلے بتاتے تھے۔ آج کی اکاؤنٹنگ میں اسے "Transparency" کہتے ہیں۔ کیا ہم اپنی رپورٹنگ میں اتنے ہی شفاف ہیں؟
وقت کی پابندی (Commitment): آپ ﷺ نے جس سے جو وعدہ کیا، اسے پورا کیا۔ بزنس میں "Deadlines" کی اہمیت سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے۔
دیانت اور امانت (Integrity): سرمایہ کار (Investors) کا پیسہ امانت ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت خدیجہؑ کے مال کی حفاظت کر کے دکھایا کہ ایک مینیجر کو کتنا امانت دار ہونا چاہیے۔
ملازمین کے حقوق (HR Management): "مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ادا کرو"۔ یہ ہے وہ پے رول (Payroll) سسٹم جو معاشرے میں خوشحالی لاتا ہے۔
سود سے پاک معیشت (Ethical Finance): حضور ﷺ نے سودی نظام کی کمر توڑ کر عدل و انصاف پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھی۔
میرا پیغام:
ہم صرف گنتی کرنے والے (Number Crunchers) نہ بنیں، بلکہ "صادق اور امین" بنیں۔ یاد رکھیں، رزقِ حلال میں برکت ہے اور دیانتدار تاجر یا پروفیشنل کا حشر انبیاء اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔