Dipalpur city

Dipalpur city City of Gold

Your Dream Home Starts at 800 sq.ft.! 🌟Discover the perfect blend of modern planning and smart space utilization — groun...
21/05/2025

Your Dream Home Starts at 800 sq.ft.! 🌟

Discover the perfect blend of modern planning and smart space utilization — ground and first floor designed to meet all your needs.

For More Information Contact
📧 [email protected]
📞1800-419-3999 (Toll-Free)

30 فرنٹ 45 لینتھ میں گھر کا خوبصورت ڈیزائن کھلا ہوا دار روشن گھر اس سائز کا بہترین نقشہ      /(
21/05/2025

30 فرنٹ 45 لینتھ میں گھر کا خوبصورت ڈیزائن کھلا ہوا دار روشن گھر اس سائز کا بہترین نقشہ


/(

We are hiring
10/05/2025

We are hiring

35'×40'  House Plan Idea House Plans Adda
10/05/2025

35'×40' House Plan Idea House Plans Adda

5 مرلہ گھر کا خوبصورت نقشہ __….--….🏡     Comment your Demention
06/05/2025

5 مرلہ گھر کا خوبصورت نقشہ __….--….🏡

Comment your Demention

30× 42'11''East Facing House Plan According Clients Requirements 2 Bedroom 1 kitchen Parking Attach Late - Bath LobbySta...
05/05/2025

30× 42'11''East Facing House Plan According Clients Requirements
2 Bedroom
1 kitchen
Parking
Attach Late - Bath
Lobby
Staircase
And proper ventilation

25 فرنٹ 45 لینتھ میں گھر کا خوبصورت ڈیزائن کھلا ہوا دار گھر ۔۔۔لاہور شہر میں سستے ترین گھر لینے کے لیے ہمارا یوٹیوب چینل...
03/05/2025

25 فرنٹ 45 لینتھ میں گھر کا خوبصورت ڈیزائن کھلا ہوا دار گھر ۔۔۔
لاہور شہر میں سستے ترین گھر لینے کے لیے ہمارا یوٹیوب چینل ویزٹ کریں
Pak property channel

30×40 East Facing House Plan According Clients Requirements 2 Bedroom 1 kitchen Parking Attach Late - Bath LobbyStaircas...
03/05/2025

30×40 East Facing House Plan According Clients Requirements
2 Bedroom
1 kitchen
Parking
Attach Late - Bath
Lobby
Staircase
And proper ventilation

بین الاقوامی گندم ریٹ 240 ڈالر فی ٹن2700 روپے  فی منکرایہ 50 ڈالر فی ٹن560 روپے فی من دیگر اخراجات ایف و بی وغیرہ کراچی ...
29/04/2025

بین الاقوامی گندم ریٹ 240 ڈالر فی ٹن
2700 روپے فی من
کرایہ 50 ڈالر فی ٹن
560 روپے فی من
دیگر اخراجات ایف و بی وغیرہ کراچی سے پورے ملک میں سپلائی۔۔۔۔
500 روپے فی من۔۔۔۔۔

امپورٹیڈ گندم کا کم از کم ریٹ ۔۔ 3600۔ 3800 روپے من

اس سال 90 لاکھ ایکٹر سے کچھ زیادہ گندم کاشت ہوئی ہے جو ملکی ضرورت کے 80 فیصد سے بھی کم ہے۔۔۔
اس سال متوقع پیداوار 5۔27 ملین میٹرک ٹن ہے
جبکہ
2024 میں ملکی پیداوار 7۔31 ملین میٹرک ٹن تھی
پچھلے سال ملکی ضرورت کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 1 ارب ڈالر کی گندم امپورٹ کی گئی تھی۔۔۔
اگلے سال اس میں اگر صرف 20 فیصد کمی ہو گئی تو جبکہ اندازہ ہے کہ 40 فیصد کمی ہو گی تو 36 سے 40 فیصد ملکی ضرورت سے کم گندم کی پیداوار ہو گی۔۔۔
40 فیصد ملکی ضرورت کی گندم امپورٹ کرنے کا بل کم از کم 2۔3 ارب ڈالر ہو گا، اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔

25۔2024 میں ساڑھے 3 ارب ڈالر کی کپاس امپورٹ کی گئی ہے۔۔۔
ڈالر بھیک کے یا قرض کے ۔۔۔۔ زرعی ملک زرعی اجناس پر خرچ کرے گا
پاکستان کے کسان کے پاس ملکی ضرورت سے دو گنا گندم پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔۔۔۔
یہ کونسی معاشی سائنس ہے میرے جیسے عام کسان کو سمجھ نہیں اتا۔۔۔
غریب کو سستا اٹا ضرور ملنا چاہیے لیکن اسکی قیمت صرف کسان کیوں ادا کرے۔۔۔۔۔۔
کیا کسان بل گیٹس یا ایلان مسک ہے؟؟

سارہ شگفتہ لکھتی ہیں:ایک شام شاعر صاحب نے کہا، مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ پھر ایک روز ریستوراں میں ملاقات ہوئی۔ ا...
11/04/2025

سارہ شگفتہ لکھتی ہیں:
ایک شام شاعر صاحب نے کہا، مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔
پھر ایک روز ریستوراں میں ملاقات ہوئی۔
اُس نے کہا، شادی کرو گی؟
دوسری ملاقات میں شادی طے ہو گئی۔

اَب قاضی کے لئے پیسے نہیں تھے۔
میں نے کہا، آدھی فیس تم قرض لے لو،
اور آدھی فیس میں قرض لیتی ہوں۔

چونکہ گھر والے شریک نہیں ہوں گے،
میری طرف کے گواہ بھی لیتے آنا۔

ایک دوست سے میں نے اُدھار کپڑے مانگے اور مقررہ جگہ پر پہنچی اور نکاح ہو گیا۔

قاضی صاحب نے فیس کے علاوہ میٹھائی کا ڈبہ بھی منگوالیا تو ہمارے پاس چھ روپے بچے۔

باقی جھنپڑی پہنچتے پہنچتے ، دو روپے، بچے ۔

میں لالٹین کی روشنی میں گھونگھٹ کاڑھے بیٹھی تھی۔

شاعر نے کہا، دو روپے ہوں گے،
باہر میرے دوست بغیر کرائے کے بیٹھے ہیں۔
میں نے دو روپے دے دئے۔

پھر کہا، ہمارے ہاں بیوی نوکری نہیں کرتی۔
نوکری سے بھی ہاتھ دھوئے۔

گھر میں روز تعلیم یافتہ شاعر اور نقاد آتے اور ایلیٹ کی طرح بولتے۔
کم از کم میرے خمیر میں علم کی وحشت تو تھی ہی لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی بُھوک برداشت نہ ہوتی ۔

روز گھر میں فلسفے پکتے اور ہم منطق کھاتے۔

ایک روز جھونپڑی سے بھی نکال دیئے گئے،
یہ بھی پرائی تھی۔
ایک آدھا مکان کرائے پر لے لیا۔
میں چٹائی پر لیٹی دیواریں گِنا کرتی ۔
اور اپنے جہل کا اکثر شکار رہتی۔

مجھے ساتواں مہینہ ہوا۔ درد شدید تھا اور بان کا درد بھی شدید تھا ۔
عِلم کے غرور میں وہ آنکھ جھپکے بغیر چلا گیا۔

جب اور درد شدید ہوا تو مالِک مکان میری چیخیں سُنتی ہوئی آئی اور مجھے ہسپتال چھوڑ آئی ۔ میرے ہاتھ میں درد اور پانچ کڑکڑاتے ہوئے نوٹ تھے۔
تھوڑی دیر کے بعد لڑکا پیدا ہوا۔

سردی شدید تھی اور ایک تولیہ بھی بچے کو لپیٹنے کے لئے نہیں تھا۔
ڈاکٹر نے میرے برابر اسٹریچر پر بچے کو لِٹا دیا۔

پانچ منٹ کے لئے بچے نے آنکھیں کھولیں اور کفن کمانے چلا گیا۔

بس، جب سے میرے جسم میں آنکھیں بھری ہوئی ہیں۔
سسٹر وارڈ میں مجھے لٹا گئی۔
میں نے سسٹر سے کہا میں گھر جانا چاہتی ہوں کیونکہ گھر میں کسی کو عِلم نہیں کہ میں کہاں ہوں ۔

اُس نے بے باکی سے مجھے دیکھا اور کہا،
تمہارے جسم میں ویسے بھی زہر پھیلنے کا کا ڈر ہے ۔ تم بستر پر رہو ۔ لیکن اب آرام تو کہیں بھی نہیں تھا۔

میرے پاس مُردہ بچہ اور پانچ رُوپے تھے۔

میں نے سسٹر سے کہا ، میرے لئے اب مشکل ہے ہسپتال میں رہنا۔ میرے پاس فیس کے پیسے نہیں ہیں، میں لے کر آتی ہوں، بھاگوں گی نہیں۔
تمہارے پاس میرا مُردہ بچہ امانت ہے،
اور سیڑھیوں سے اُتر گئی۔

مجھے ۱۰۵ ڈگری بُخار تھا۔
بس پر سوار ہوئی ، گھر پہنچی۔

میرے پستانوں سے دُودھ بہہ رہا تھا ۔میں نے دودھ گلاس میں بھر کر رکھ دیا ۔

اتنے میں شاعر اور باقی منشی حضرات تشریف لائے ۔
میں نے شاعر سے کہا، لڑکا پیدا ہوا تھا، مَر گیا ہے۔

اُس نے سرسری سنا اور نقادوں کو بتایا۔

کمرے میں دو منٹ خاموشی رہی اور تیسرے منٹ گفتگو شروع ہوگئی،
فرائڈ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟
راں بو کیا کہتا ہے ؟
سعدی نے کیا کہا ہے ؟
اور وارث شاہ بہت بڑا آدمی تھا ۔

یہ باتیں تو روز ہی سُنتی تھی لیکن آج لفظ کُچھ زیادہ ہی سُنائی دے رہے تھے۔

مجھے ایسا لگا،
جیسے یہ سارے بڑے لوگ تھوڑی دیر کے لئے میرے لہو میں رُکے ہوں، اور راں بو اور فرائڈ میرے رحم سے میرا بچہ نوچ رہے ہوں۔
اُس روز علم میرے گھر پہلی بار آیا تھا اور میرے لہُو میں قہقہے لگا رہا تھا ۔
میرے بچے کا جنم دیکھو۔۔!!

چنانچہ ایک گھنٹے کی گفتگو رہی اور خاموشی آنکھ لٹکائے مجھے دیکھتی رہی۔
یہ لوگ عِلم کے نالے عبُور کرتے کمرے سے جُدا ہوگئے۔

میں سیڑھیوں سے ایک چیخ کی طرح اُتری۔
اب میرے ہاتھ میں تین رُوپے تھے ۔
میں ایک دوست کے ہاں پہنچی اور تین سو روپے قرض مانگے، اُس نے دے دیئے ۔

پھر اُس نے دیکھتے ہوئے کہا،
کیا تمہاری طبیعت خراب ہے ؟

میں نے کہا، بس مجھے ذرا سا بخار ہے، میں زیادہ دیر رُک نہیں سکتی ۔ پیسے کسی قرض خواہ کو دینے ہیں ، وہ میرا انتظار کر رہا ہوگا۔

ہسپتال پہنچی ۔
بِل 295 روپے بنا۔
اب میرے پاس پھر مُردہ بچہ اور پانچ روپے تھے۔

میں نے ڈاکٹر سے کہا،
آپ لوگ چندہ اکٹھا کر کے بچے کو کفن دیں،
اور اِس کی قبر کہیں بھی بنا دیں،
میں جارہی ہوں۔

بچے کی اصل قبر تو میرے دل میں بَن چکی تھی۔

میں پھر دوہری چیخ کے ساتھ سیڑھیوں سے اُتری اور ننگے پیر سڑک پہ دوڑتی ہوئی بس میں سوار ہوئی۔

ڈاکٹر نے سمجھا شاید صدمے کی وجہ سے میں ذہنی توازن کھو بیٹھی ہوں۔
کنڈکٹر نے مجھ سے ٹکٹ نہیں مانگا اور لوگ بھی ایسے ہی دیکھ رہے تھے۔

میں بس سے اُتری، کنڈکٹر کے ہاتھ پر پانچ روپے رکھتے ہوئے، چل نکلی، گھر ؟ گھر۔۔۔۔!!
گھر پہنچی۔

گلاس میں دودھ رکھا ہوا تھا۔
کفن سے بھی زیادہ اُجلا۔

میں نے اپنے دودھ کی قسم کھائی ۔

شعر میں لکھوں گی،
شاعری میں کروں گی،
میں شاعرہ کہلاؤں گی۔

اور دودھ باسی ہونے سے پہلے ہی میں نے ایک نظم لکھ لی تھی،
لیکن تیسری بات جھوٹ ہے،
میں شاعرہ نہیں ہوں۔
مجھے کوئی شاعرہ نہ کہے۔
شاید میں کبھی اپنے بچے کو کفن دے سکوں۔

آج چاروں طرف سے شاعرہ۔۔۔۔ شاعرہ۔۔۔۔ کی آوازیں آتی ہیں،
لیکن ابھی تک کفن کے پیسے پُورے نہیں ہوئے..

تلاش گمشدہ نام ظہیر احمد والد منیر احمد  چونگی امر سدھو پنجاب سوسائٹی سے لاپتا ہے 03444576811         Plz share
10/04/2025

تلاش گمشدہ
نام ظہیر احمد والد منیر احمد چونگی امر سدھو پنجاب سوسائٹی سے لاپتا ہے
03444576811



Plz share

Address

Dipalpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dipalpur city posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share