Yours Jobz

Call

Yours Jobz Get your desired jobs here. You can also post jobs here.

01/08/2026

فرسودہ نظام انجوائے بھی، سیاسی شہادت کی تمنا بھی

(محمد عارف خان۔ کھاریاں)

پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب و غریب تضاد ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ایک طرف ہر سیاست دان، ہر تجزیہ کار، ہر عام شہری یہ کہنے کو تیار ہے کہ نظام فرسودہ ہے، ادارے کمزور ہیں اور حکمرانی کا ڈھانچہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ دوسری طرف اسی فرسودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے اسے انجوائے کرتے سیاسی رہنماؤں اور ان کے حامیوں میں "سیاسی شہادت" کی ایک عجیب سی تمنا پائی جاتی ہے۔ یہ تمنا کبھی عدالتی کارروائیوں کے سائے میں ظاہر ہوتی ہے کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے آواز بن کر بلند ہوتی ہے اور کبھی سڑکوں پر احتجاج کے دوران نعروں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

یہ کوئی نیا رجحان نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچی تو کچھ رہنماؤں نے اس ہلچل کو اپنی سیاسی شناخت کا حصہ بنا لیا۔ انہیں نظام نے کبھی "ظلم کا شکار" قرار دیا تو کبھی "جمہوریت کا محافظ" اور کبھی سیدھے سادے لفظوں میں "سیاسی شہید"۔ عوام نے ان کی ہمدردی میں آوازیں بلند کیں، جلسے کیے اور کئی بار انہیں اقتدار تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد وہی رہنما یا ان کے قریبی حلقے، نئے رنگ و روپ میں پھر سے حکمرانی کے ایوانوں میں نظر آئے۔ وہ جو کچھ دن پہلے "نظام کا شکار" تھے اچانک "فرسودہ نظام کے محافظ" بن گئے۔

یہ ایک ایسا چکر ہے جو بار بار دہرایا گیا ہے اور ہر بار عوام کو لگا کہ شاید اس بار کچھ بدلے گا۔ مگر بدلا کچھ نہیں۔ مہنگائی آج بھی قابو سے باہر ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل رہی ہے، بدانتظامی ہر سرکاری دفتر کی پہچان بن چکی ہے اور بدعنوانی اس قدر گہری جڑیں جمائے ہوئے ہے کہ اسے نکالنا اب ایک عام سیاسی ارادہ نہیں بلکہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔

آئین پاکستان ہمیں جمہوری اداروں، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا دستاویزی سہارا ہے جسے ہم نے ہمیشہ اپنے سینے سے لگایا مگر عملی زندگی میں اس کی روح کو نظر انداز کیا۔ اداروں کی کمزوری نے نہ صرف معاشی ترقی کو روکا بلکہ عام آدمی کے اعتماد کو بھی متاثر کیا۔ احتساب کا عمل جب غیر شفاف ہوتا ہے جب قانون کے محافظ خود قانون کی پاسداری سے گریزاں نظر آتے ہیں اور جب سیاسی استحکام ایک دور دراز خواب بن کر رہ جاتا ہے تب ایک خلا پیدا ہوتا ہے اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے "سیاسی شہادت" کا بیانیہ سامنے آ جاتا ہے۔

سیاسی شہادت کا تصور اگر محض جذباتی سطح پر دیکھا جائے تو یہ ایک مظلومیت کا دردناک بیانیہ نظر آتا ہے مگر جب اسے تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ اکثر نظام کی ناکامیوں کو ایک فرد کی قربانی سے جوڑنے کی ایک مہارت ورانہ کوشش نظر آتی ہے۔ یہ کوشش حقیقت کو ثابت نہیں کرتی بلکہ یہ بتاتی ہے کہ جب نظام خود اصلاح کی راہ نہیں اختیار کرتا، جب ادارے اپنی ذمہ داریوں سے عاری ہو جاتے ہیں تب سیاسی بیانیے میں قربانی کا عنصر غالب آ جاتا ہے۔ ایک رہنما کی ذاتی ناکامی کو قومی المیہ بنا دیا جاتا ہے اور قومی المیے کو ذاتی مشکل میں بدل کر نظام کی ناکامیوں سے توجہ ہٹا لی جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ فرسودہ نظام کی اصلاح کے بغیر نہ مہنگائی قابو میں آ سکتی ہے، نہ بے روزگاری کم ہو سکتی ہے اور نہ بدعنوانی پر مؤثر روک لگ سکتی ہے۔ یہ مسائل صرف ایک جماعت یا ایک دورِ حکومت تک محدود نہیں رہے۔ مختلف ادوار میں، مختلف جماعتوں نے اقتدار سنبھالا مگر عوام کی شکایات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسائل کا سرچشمہ صرف سیاسی قیادت میں نہیں بلکہ حکمرانی کے ڈھانچے میں ہے۔

کیا موجودہ حکمرانی کا ڈھانچہ ان مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اگر آئین کی روح کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو جواب "ہاں" ہونا چاہیے۔ مگر عملی طور پر جواب اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت "سیاسی شہادت کے بیانیے" سے آگے بڑھے۔ عوام کو درپیش مسائل قومی ہیں اور ان کا حل بھی قومی سطح پر سوچنا ہوگا۔ ریاستی اداروں کو قانون کی بالادستی قائم رکھنے اور شفاف احتساب یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اقتدار کے لیے نہیں، بلکہ نظام کی اصلاح کے لیے مقابلہ کرنا ہوگا۔

عوام کو بھی اس سارے معاملے میں ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ جمہوری عمل تبھی مضبوط ہوتا ہے جب شہری صرف حقوق کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ اپنے فرائض کا بھی احساس رکھتے ہیں۔ جب وہ سیاسی نعروں پر اندھا اعتماد نہیں کرتے بلکہ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب وہ "سیاسی شہادت" کے جذباتی بیانیے سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ اصلاح کے عملی ایجنڈے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اصلاحِ نظام، مضبوط جمہوری ادارے اور عوامی فلاح ہی وہ راستہ ہے جو اس چکر کو توڑ سکتا ہے جو ہمیں بار بار ایک ہی نقطے پر لے آتا ہے۔

سیاسی شہادت کی تمنا سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ نظام کو ایسا بنایا جائے جہاں کسی کو شہادت کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ جہاں عدالتیں آزاد ہوں، جہاں احتساب سب کے لیے یکساں ہو، جہاں ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور جہاں عوام کا ووٹ واقعی ان کی طاقت بنے۔

یہ مثبت اور تعمیری راستہ ہی پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ شہادت کے نعروں سے زیادہ پائیدار نظام کی تعمیر ہے۔ اور یہ تعمیر صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سب — چاہے حکمران ہوں یا عوام — اس بات پر متفق ہو جائیں کہ ہمیں ایک ایسا پاکستان چاہیے جہاں سیاسی شہادت کی تمنا نہیں بلکہ ترقی اور فلاح کی ضرورت محسوس ہو۔

EID MUBARAK
20/03/2026

EID MUBARAK

27/01/2026

جین زی کے ساتھ ایک مشترکہ سفر کا روڈمیپ
محمد عارف خان کھاریاں
عالمی افق پر نسلیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ سی نظر آتی ہیں ہر ایک اپنے دور کے درد اور خوابوں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی۔ جین زی جو ڈیجیٹل انقلاب کی گود میں پل کر بڑھی ہے اس کی روح میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار نبض دوڑتی ہے جہاں ماحولیاتی تباہی ایک وجودی خوف ہے، ذہنی سکون ایک دور کی چیز اور معاشی استحکام ایک خوابِ شب۔ دوسری جانب قریب کی نسلیں جو روایات کی چادر اوڑھے، معاشی جدوجہد کی آگ میں تپ کر نکلی ہیں زندگی کی تلخ اور میٹھی یادوں کے ذخیرے لیے بیٹھی ہیں۔ ان کی آنکھیں جین زی کی بے باک اور تیز سوچ کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہیں اور جین زی سابقین کی خاموشی اور صبر کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ خلیج نہ صرف دل کی دوری ہے بلکہ معاشرے کی ترقی میں ایک پوشیدہ رکاوٹ بھی ہے مگر اس کا علاج ممکن ہے۔ ایک ایسا راستہ جو دونوں کو ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے دے، ایک ہی کشتی میں بٹھائے اور ایک مشترکہ منزل کی طرف لے جائے۔
پہلا قدم ادراک کا ہے اور ادراک سننے سے جنم لیتا ہے۔ نسل سابق کو جین زی کی دنیا میں قدم رکھنا چاہیے—وہ دنیا جہاں سوشل میڈیا کی لہریں دل کی دھڑکنوں کو تیز کر دیتی ہیں جہاں نوکریوں کی غیر یقینی صورت حال مستقبل کے نقشے کو دھندلا کر دیتی ہے اور جہاں ماحولیاتی بحران ایک دور کی بات نہیں بلکہ آنکھوں کے سامنے کھڑی حقیقت ہے۔ اس لیے باہمی مکالمے کا آغاز ضروری ہے خاندانی محفلوں میں، کمیونٹی کے حلقوں میں یا خاموش آن لائن کمروں میں، جہاں جین زی اپنے درد کو الفاظ دے اور پہلے کی نسل اپنے تجربات کی روشنی میں سنے۔ یہ سننا محض الفاظ جمع کرنا نہیں بلکہ دل کی دوری مٹانا ہے۔ جب پہلے والی نسل جین زی کی جدوجہد کو محسوس کرے گی تو وہ دیکھے گی کہ یہ نوجوان نہ صرف مسائل کا شکار ہیں بلکہ ان کے حل کی تلاش میں بھی پیش پیش ہیں۔ یہ ادراک ہی باہمی احترام کی بنیاد رکھے گا۔
دوسرا قدم مشترکہ زخموں کی تلاش ہے۔ دونوں نسلوں کے درد الگ الگ لگتے ہیں مگر گہرائی میں دیکھیں تو ایک ہی ہیں معاشی دباؤ، صحت کی تلاش اور سماجی انصاف کی خواہش۔ جین زی کی مالی ناپائیداری اور سابقین کی ریٹائرمنٹ کی فکر ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس لیے مشترکہ محفلیں سجائی جائیں جہاں دونوں مل کر اپنے مسائل کی فہرست بنائیں اور دیکھیں کہ کون سے زخم سب کے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف خلیج کو پاٹے گا بلکہ یہ احساس دلائے گا کہ ہم ایک ہی طوفان میں ہیں اور اس طوفان سے نکلنے کے لیے مل کر کشتی چلانی ہے۔
تیسرا قدم باہمی سیکھنے کا ہے۔ سابق نسل جین زی کو زندگی کی وہ حکمت دے سکتی ہے جو برسوں کی آزمائشوں سے نکلی ہے—استقامت، رشتوں کی گہرائی اور طویل سوچ۔ جین زی ان کو نئی دنیا کی زبان سکھا سکتی ہے۔ ڈیجیٹل مہارت، تیز فیصلہ سازی اور بے باک سوچ۔ اس تبادلے کے لیے mentorship کے پل بنائے جائیں۔ کام کی جگہ پر، گھر کے آنگن میں یا ورچوئل کمروں میں جہاں ایک دوسرے کو علم کا تحفہ دیا جائے۔ یہ نہ صرف علم کا پل ہے بلکہ دل کا پل بھی ہے جو دونوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر سفر ادھورا ہے۔
چوتھا قدم مواصلات کی نئی زبان تلاش کرنے کا ہے۔ جین زی کی تیز، مختصر اور ڈیجیٹل زبان سابقین کی روایتی، مفصل اور صبر طلب گفتگو سے ٹکراتی ہے۔ اس ٹکراؤ کو پل میں بدلنے کے لیے واضح اصول وضع کیے جائیں۔ بات چیت میں توازن، الفاظ میں وضاحت اور جذبات میں شفقت۔ یہ اصول تنازعات کو کم کریں گے اور تفہیم کو گہرا کریں گے۔
پانچواں قدم مشترکہ اقدار اور منزل کی تلاش ہے۔ دونوں نسلوں کو مل کر یہ طے کرنا چاہیے کہ ہم کون سی دنیا چاہتے ہیں۔ ایک دنیا جہاں مساوات ہو، پائیداری ہو اور انصاف ہو۔ اس کے لیے ویژن کی محفلیں سجائی جائیں جہاں دونوں مل کر خواب دیکھیں اور منزل کا نقشہ کھینچیں۔ یہ منزل نہ صرف ہدف دے گی بلکہ دونوں کو ایک مشترکہ سفر کا حصہ بنائے گی۔
چھٹا قدم تنوع اور شمولیت کی راہ ہموار کرنے کا ہے۔ معاشرے اور کام کی جگہ پر ایسی فضا بنائی جائے جہاں دونوں نسلیں برابر کی شراکت دار ہوں۔ تربیت، مشاورت اور باہمی احترام کی پالیسیاں اس راہ کی روشنی ہیں۔ یہ قدم تعصبات کو مٹاتا ہے اور مشترکہ کامیابی کی بنیاد رکھتا ہے۔
ساتواں قدم عملی اشتراک کا ہے۔ دونوں کو مل کر کام کرنے دیا جائے۔ کمیونٹی کی بہتری، سماجی مہمات یا مشترکہ مسائل کی تلاش میں۔ یہ عملی قدم ہم آہنگی کو محسوس کرواتا ہے اور یہ یقین دلاتا ہے کہ مل کر ہم زیادہ طاقتور ہیں۔
آخری قدم مسلسل جائزہ اور موافقت کا ہے۔ یہ سفر جامد نہیں بلکہ زندہ اور لچکدار ہے۔ وقتاً فوقتاً بیٹھیں، گفتگو کریں، پیشرفت دیکھیں اور ضروری تبدیلیاں لائیں۔ یہ مسلسل رابطہ یقینی بنائے گا کہ کشتی کا سفر جاری رہے اور منزل قریب آتی جائے۔
یہ روڈ میپ محض ایک خاکہ نہیں بلکہ ایک دعوت ہے۔ دعوتِ ادراک، دعوتِ احترام، دعوتِ مشترکہ سفر۔ جب جین زی کی بے باکی اور سابق نسل کی حکمت مل کر چلیں گی تو ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھی جا سکے گی—ایک دنیا جہاں نہ صرف نسلیں الگ الگ نہیں رہیں گی بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بنیں گی۔ یہ سفر ادراک سے شروع ہوتا ہے اور ہم آہنگی پر ختم ہوتا ہے—ایک منزل جہاں سب جیتتے ہیں۔

06/01/2026

Great opportunity to start your own business or earn as a freelancer
11/11/2025

Great opportunity to start your own business or earn as a freelancer

🌍 Join Hands with Ahbab Consultants!
Become a Global Education Partner and be part of a network transforming students’ futures through transparent, ethical, and professional consultancy.

🤝 Whether you are:
✅ Running an existing education office
✅ A freelancer in the education field
✅ Or looking to open a new branch in your city

We invite you to collaborate for success and build the future of global education — together!

💼 Partnership Options:
📌 MOU with Existing Offices
📌 Franchise Opportunities
📌 Freelancer Collaboration

📲 Contact us today and let’s grow together!
🌐 https://ahbabconsultants.com/contact/
📞 0329 0600622 | +92 053 7600622

Ahbab Consultants Pvt Ltd Is hiring an intern! You have a chance to be a full time Educational Consultant
24/10/2025

Ahbab Consultants Pvt Ltd
Is hiring an intern!
You have a chance to be a full time Educational Consultant

Our team is looking for a passionate and creative intern to join us this fall.

This is a great opportunity to gain hands-on experience and contribute to real projects. If you're eager to learn, a self-starter, and have a can-do attitude, we want to hear from you!

Know someone who would be a perfect fit? Tag them below or share this post!

To apply, please send your resume and a brief cover letter to 0329 0600622 or email: [email protected]

22/07/2025
07/06/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میری طرف سے دل کی گہرائیوں سے عید مبارک! اللہ تعالٰی یہ عید آپ کے لیے خوشیوں، برکتوں اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے۔ آمین۔
محمد عارف خان

Address

Almuqeet Center GT Road Kharian
Kharian
50141

Telephone

+923361047663

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yours Jobz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category