11/04/2023
یورِک ایسڈ کا گنٹھیا - (𝐆𝐨𝐮𝐭 / 𝐆𝐨𝐮𝐭𝐲 𝐀𝐫𝐭𝐡𝐫𝐢𝐭𝐢𝐬) کا علاج بذریعہ غذا
پروٹین کا زیادہ استعمال آپ کے خون میں یورک ایسڈ کو بڑھاتا ہے۔ یورک ایسڈ طبعی طور پر خون اور پیشاب میں پایا جاتا ہے۔ اگراس کی مقدار معمول سے زیادہ ہو جائے تو اسے "𝐇𝐲𝐩𝐞𝐫𝐮𝐫𝐢𝐜𝐞𝐦𝐢𝐚" کہا جاتا ہے پھر یہ جوڑوں میں کرسٹل کی صورت میں اکٹھا ہونے لگتا ہے۔ جس کی وجہ سے جوڑوں میں درد سوزش اور ورم ہو جاتا ہے۔ اس کی مناسب مقدارخواتین میں 𝟓.𝟓 (𝐦𝐠 / 𝐝𝐋) اور مردوں میں 𝟔.𝟓 (𝐦𝐠 / 𝐝𝐋) ہے۔
ٹخنے، ایڑھی، پاؤں کے انگوٹھے اور انگلیوں کے وقرب و جوار سے ہوتا ہوا آہستہ آہستہ جسم کے تمام جوڑوں کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ جوڑ متورم اور سوجنے لگتے ہیں۔ درد کی زیادتی سے چلنا پھرنا حتیٰ کہ اُٹھنا بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جوڑوں میں یورک ایسڈ کے کرسٹل رکنے سے ان کی قدرتی حرکت متاثر ہو جاتی ہے۔ مقام ورم پر جلد نیلی اور تنی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مریض لڑکھڑا کر چلتا ہے۔ نیند کم ہو جاتی ہے۔ نظام ہضم خراب ہو جاتا ہے،سر بو جھل اور بلڈپریشر ہائی ہونے کی وجہ سے چکر بھی آنے لگتے ہیں۔اس کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو گردوں میں یورک ایسڈ کی پتھری بن جاتی ہے۔ جو انتہائی اذیت کا باعث بنتی ہے۔
اگر آپ کا یورک ایسڈ معمولی مقدار میں بڑھ رہا ہے تو غذائی پرہیز ہی اس کا بہترین علاج ہے۔
𝟏. ایلو ویرا میں آلو کا رس ملا کر پینے سے بھی یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث ہونے والا جوڑوں کا درد دور ہو جاتا ہے۔
𝟐. خالی پیٹ دو سے تین اخروٹ کھانے سے ہائی یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔
𝟑. ایک درمیانی سائز کے کچے پپیتے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے بیج الگ کر کے ان ٹکڑوں کو دو لیٹر پانی میں پانچ سے آٹھ منٹ تک پکائیں اور پانی میں ایک چمچ گرین ٹی کے پتے بھی ڈال دیں اور اسے اچھے سے ابال دیں۔ اس پانی کو چائے کی طرح دن میں دو یا تین بار استعمال کریں۔
𝟒. یورک ایسڈ کی صورت میں کھانوں میں اجوائن کا استعمال کرنا چاہیے۔
𝟓. روزانہ رات کے کھانے کے بعد سبز چائے کے استعمال سے یورک ایسڈ کی شکایت کم ہونے لگتی ہے۔
𝟔. ماہرین کے مطابق لہسن کھانے سے یورک ایسڈ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگر لہسن کا ایک ٹکڑا روزانہ صبح سویرے نہار منہ چبا لیا جائے تو تو جسم سے یورک ایسڈ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
● سیب کا استعمال
سیب میں (𝐌𝐚𝐥𝐢𝐜) ایسڈ کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اور یہ ایسڈ قدرتی طور پر یورک ایسڈ کے اثرات کو بے اثر کرتا ہے۔ یہ یورک ایسڈ سے پیدا ہونے والے امراض کے حوالے سے بھی حفاظت کرتا ہے۔ بہتریںن فوائد کے حصول کے لیے روزانہ ایک سیب کھانا ضروری ہے۔
● پانی کا استعمال
ایک گلاس پانی میں ایک چمچ خالص شہد، آرگینک سرکہ حل کر کے پینے سے یورک ایسڈ کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ محلول 𝟒 ہفتوں تک دن میں دو دفعہ استعمال کریں۔
● چیری اور اسٹابری پھل کا استعمال
چیری میں اینتھو سائز نامی ایک جز پایا جاتا ہے جو یورک ایسڈ کو کنٹرول کرتا ہے۔ چیریز اور بیریز یعنی اسٹرابیریز اور بلو بیریز یورک ایسڈ کو کرسٹل کی شکل بننے سے روکتے ہیں کیونکہ یہی کرسٹلز جوڑوں کے درد اور گٹھنے کے درد کا باعث بنتے ہیں۔ چیری میں (𝐀𝐧𝐭𝐡𝐨𝐜𝐲𝐚𝐧𝐢𝐧) جو سوزش کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔ چیری نہ صرف یورک اسیڈ کی بڑھنے کی سطح کو روکتی ہے بلکہ جسم میں موجود کیمیکل کے مرکب کے نقصانات سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ یورک ایسڈ کی سطح میں کمی کے لیے روزانہ 𝟐𝟎𝟎 گرام چری کھانا ضروری ہے۔
اسٹرابری بھی ایک ایسی قدرتی غذا ہے جو جسم میں پائے جانے والے کیمیکلز کی مزاحمت کرتی ہے۔ یہ مزیدار غذا یورک ایسڈ کو کم کر کے آپکو گھٹیا سے آرام پہنچاتی ہے۔
● فائبر کا استعمال
یورک ایسڈ کو کم کرنے کے لیے ایسے کھانے استعمال کریں جن میں فائبر کی مقدار ذیادہ ہوتی ہے ایسی سبزیوں کو استعمال کرنے سے یورک ایسڈ کنٹرول میں رہتا ہے۔ کچھ سبزیاں فائبر سے مالا مال ہیں جیسا کہ جو، باجرہ، دلیہ، بروکلی، سیب، کینو، ناشپاتی، اسٹرابیریز، کھیرا، گاجر اور کیلا۔ یہ تمام وہ غذائیں ہیں جو قبض جیسی گندی بیماری کو دور کرتے ہیں۔ ان پھل اور سبزیوں کو کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے جس سے یورک ایسڈ کا خراج ممکن ہے۔
● لیموں کے رس کا استعمال
لیموں 𝐕𝐢𝐭𝐚𝐦𝐢𝐧 𝐂 اور الکائن سے بھرپور ہوتا ہے۔ لیموں کا عرق بظاہر تیزابی خصوصیات رکھتا ہے لیکن اس میں موجود 𝐕𝐢𝐭𝐚𝐦𝐢𝐧 𝐂 یورک ایسڈ کو فوری کنٹرول کرتا ہے۔
ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ لیں اور اسکا ایک محلول کوتیار کرلیں۔ اسکا کا میکسچر یورک ایسڈ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس محلول میں حسب ذائقہ چینی یا شہد بھی ڈال کر پیا جا سکتا ہے۔ اس محلول کو چار ہفتہ تک پینے سے جلد فائدہ ہوتا ہے۔
لیکن اگر آپ کا یورک ایسڈ زیادہ مقدار میں بڑھ رہا ہے
یا پھر یورک ایسڈ میں اضافہ کو چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے
یا آپ کو اس کے ساتھ جوڑوں کی سوزش اور درد ہے
یا صحت کے دوسرے مسائل مثلاً شوگر، بلڈ پریشر وغیرہ ہے تو اس کا علاج اسپیشلسٹ ڈاکٹر ریوماٹالوجسٹ کرتے ہیں۔
بروقت تشخیص سے بہتر علاج ممکن ہے اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس مرض کی ابتدائی علامات میں مبتلا ہے تو فوری طور پر تجربہ کار ڈاکٹر ریوماٹالوجسٹ سے رابطہ کریں۔
آپ اس نمبر 2430000 0325 پر اپنی یورک ایسڈ کی رپورٹ بھیج کر مشورہ کرسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحت مند زندگی عطا فرمائے۔ آمین
this page is jobz and health