22/03/2024
ایک مدت سے تجھے ورد میں رکھا جس نے،
وہ محبت میں قلندر بھی تو ہو سکتا ہے!
تیرے کوچے میں جو آیا ہے غلاموں کی طرح،
اپنی بستی کا سکندر بھی تو ہو سکتا ہے!
کب تلک تیرے خیالوں کے سہارے پہ جیؑں؟
دل تیری یاد سے منکر بھی تو ہو سکتا ہے