Shoes Bazar

Shoes Bazar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Shoes Bazar, Zamzama commercial Lane D. H. A phase V, Karachi.

Our Services :
- Interior Designing
- Building Construction
- Home Renovation
- Dismantling Works
- Construction Material Supply
- Manpower Supply
- Other Related Construction Works.

22/03/2024

ایک مدت سے تجھے ورد میں رکھا جس نے،
وہ محبت میں قلندر بھی تو ہو سکتا ہے!

تیرے کوچے میں جو آیا ہے غلاموں کی طرح،
اپنی بستی کا سکندر بھی تو ہو سکتا ہے!

کب تلک تیرے خیالوں کے سہارے پہ جیؑں؟
دل تیری یاد سے منکر بھی تو ہو سکتا ہے

Normality is a paved road; it’s comfortable to walk, but no flowers grow on it ~ Van Gogh
27/09/2023

Normality is a paved road; it’s comfortable to walk, but no flowers grow on it ~ Van Gogh

A taste of freedom can make you unemployable ~ Naval Ravikant
17/09/2023

A taste of freedom can make you unemployable ~ Naval Ravikant

چلو آج بچپن کا کوئی کھیل کھیلیں صاحب! بڑی مدت ہوئی کبھی ہنس کر نہیں دیکھا🥹💔۔
05/09/2023

چلو آج بچپن کا کوئی کھیل کھیلیں صاحب! بڑی مدت ہوئی کبھی ہنس کر نہیں دیکھا🥹💔۔

Edited some Pictures for .ahmeddanyal I hope you’ll like it 😃
04/09/2023

Edited some Pictures for .ahmeddanyal I hope you’ll like it 😃

چائے جس بھی موسم میں بنی ہو سچ تو یہ ہے کہ دل و دماغ کے موسم کو تروتازہ ہی رکھتی ہے...🥰😍Client:  Shoot Location : Bilawa...
03/09/2023

چائے جس بھی موسم میں بنی ہو سچ تو یہ ہے کہ دل و دماغ کے موسم کو تروتازہ ہی رکھتی ہے...🥰😍

Client:
Shoot Location : Bilawal Chorangi
Shoot at : Canon 1200D, 50mm
Edited in Lightroom/Snapseed

DM for your next Cinematic Shoot for TikTok🔥🎬

31/03/2023

In life there are parameters, the parameters of the living i mean at what level you live your life? is it ordinary, below ordinary or extraordinary?

Unfortunately, people live there whole life in a cocoon or in a rounded cycle all their life, it's heartbreaking to see them dread over peril. To live extraordinary one must take a step forth. The first rule is Dream big, start small & act now....

Zayin A.

30/03/2023

The number of poeple in your contact list is your social currency. The stronger it is, the more business you'll do.

2nd tool is your communication skill, everytime you get in touch, you open yourself to business opportunities and future partnerships.

but, a lack of communication will unleash a little monster that'll eat up all of your business opportunities.

Zayin A

دنیا میں ۹۰ فیصد کی آبادی صرف اپنی بنیادی ضروریات کہ عوض اپنی آزادی کی چابی کسی اور کہ ہاتھ میں دیکر اس بیڑ کا حصہ بن جا...
17/03/2023

دنیا میں ۹۰ فیصد کی آبادی صرف اپنی بنیادی ضروریات کہ عوض اپنی آزادی کی چابی کسی اور کہ ہاتھ میں دیکر اس بیڑ کا حصہ بن جاتی ہے جو غلط ڈائریکشن میں مستقل باگ دوڑ کرتی ہیں، جو محنت و مشقت اٹھا کر اپنے گاڑھے پسینہ سے اپنے مالک کو عیش و عشرت کی زندگی مہیا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ ان کا مالک انتہائی چالاکی سے ان کا ہنر کوڑیوں کے مول خریدتا ہے اور روپوں کے دام بیچ دیتا ہے۔ اگر آپ اس کاروباری شخصیت کی آنکھوں میں باریکی سے دیکھیں تو آپکوں انہی آنکھوں میں جھلکتا ہوا خوابوں کا سمندر نظر آئیگا جو اس کہ حوصلہ اور جنون کو مزید پختگی سے آراستہ کرتی ہیں۔

خیر، یہ ۹۰ فیصد آبادی اپنے مسائل حل کرنے میں دور اندیشی سے کام نہیں لیتی یا کرنا ہی نہیں چاہتی۔ آج کا نوجوان عقابوں کی طرح فضا کی بلندیوں میں پرواز کرنے کہ بجائے زمین پر رینگنے کو ترجیح دیتا ہے۔ گویا وہ اپنی آزادی کی قدرو قیمت سے ہی نا اشنا ہو یا اس غلامی کا سلسلہ جدی پشتی سے چل رہا ہو۔ اسی جدی پشتی کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کہ لئے ہر خاندان میں ایسا فرد ضرور جنم لیتا ہے جس کا سینہ مشعل آزادی سے منور ہوتا ہے۔جو اپنی زندگی کہ حوالہ سے صاف گو ہوتا ہے۔

زندگی کی اس نہ رکنے والی باگ دوڑ میں انسان خود سے اپنی ہی زندگی کہ کچھ اہم سوالات کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ آج ہی اک پینسل اور خالی صفحہ لیکر تنہائی میں بیٹھ جائے۔ سوالات لکھیں پھر شعور و فہم اور دور اندیشی سے اسکہ جوابات لکھیں۔

۔ اپنی زندگی کہ بارے میں لکھیں۔ کس طرح ہے اور آپ ان میں کیا تبدیلی لاکر کس طرح گزارنا چاہتے ہیں اور کیوں ؟

۱- میرے مقاصد کیا ہے ؟

۲- کیا نوکری کہ توسط سے ان مقاصد کا حصول ممکن ہیں ؟ اگر نہیں تو مترادف راستہ کونسا ہے.

۳- کیا میری جدوجہد صرف میری اپنی زات تک محدود ہے مطلب ( میں اور میری فیملی) یا اس سے میرا معاشرہ ، خاندان یا آنے والی نسلیں بھی مستفید ہوسکے گی۔ اگر یہ جدوجہد صرف نوکری تک محدود ہے تو یقیناً اس سے صرف آپکی زات کو ہی فائدہ پہنچے گا۔

۴- مقاصد آپ کہ اب واضح ہیں۔ اب ان مقاصد کہ حصول کیلئے آپ نے کیا کرنا ہے۔

۵۔ روڈ میپ کو تحریری طور پر لکھ کر اس کو پرنٹ آؤٹ کرکے اپنی دیوار پر آویزہ کرکے اب روزانہ اپنی کاکردگی کا غور سے جائزہ لیتے رہے اور اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھتے رہے۔

یاد رکھئے، ناکامی اس انسان کا مقدر بنتی ہے جو جدوجہد کو ترک کردیتا ہے۔ آپ تب تک نہیں ہارتے جب تک آپ اک سوچے سمجھے منصوبے کہ تحت صحیح ڈائریکشن میں اپنی جدو جہد کو رواں دواں رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔

زندگی بہت چھوٹی ہے اگراسے منفی ذہنیت رکھنے والوں کی صحبت میں گزار دیا جائے۔ ہاں! اگر کوئی اپنے مقصدِحیات سے نا واقف ہو ا...
14/03/2023

زندگی بہت چھوٹی ہے اگراسے منفی ذہنیت رکھنے والوں کی صحبت میں گزار دیا جائے۔ ہاں! اگر کوئی اپنے مقصدِحیات سے نا واقف ہو اور نہ ہی اسکی آنکھوں میں جھلکتے خوابوں کا سمندر ہو ،اور وہ دنوں کو صرف نمبرز کہ اعتبار سے دیکھتا ہو۔ دنوں کو مہینہ اور مہینوں کو سال بنا کر ایک سال ذندگی سے کم کردینے کو اگر ذندگی مانتا ہو۔ تو تاریخ کو بھی اسکی ذندگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان لوگوں کی ذندگی میں ڈائریکشن ہی کوئی نہیں ہوتی۔ یہ ذہنی غلام سیاست، مذہب اور ذات پر گھنٹوں بحث و مباحثہ کرنے میں اپنا دن گزارلیتے ہے۔ اور رات کو سونے سے پہلے دعا کرتے ہیں کہ فلاں پارٹی کی حکومت آجائے تو ملک کہ حالات بہتر ہوجائینگے خود کہ خیالات کے طلسم میں پھر وہ کاروبار شروع کرتے ہے اور ارب پتی بن جاتے ہے۔ ہر دن کی طرح خود کو بیوقوف بنا کر سو جاتے ہے کیونکہ اگلے دن صبح اٹھ کر دوبارہ نوکری پر جانا ہوتا ہے۔

بعض اوقات ہم زندگی میں اس قسم کی ذہنیت رکھنے والے لوگوں کی صحبت اختیار کر بیٹھتے ہے۔ حضرت مولانا رومی فرماتے ہے کہ اک شیر کا بچہ گھومتے گھومتے بیڑوں کے ریوڑ میں چلا گیا اور وہاں رہنے لگا۔ ان میں رہتے رہتے اس نے زندگی گزاردی۔ وہ بھول گیا کہ میں شیر ہوں۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ شیروں کا لشکر جا رہا ہے۔ جیسے ہی اس نے شیروں کہ لشکر کو دیکھا تو اسے خیال آیا کہ یہ تو مجھ سے ملتے جلتے لگتے ہیں۔ ان کہ انداز، اطوار، ان کا طور طریقہ، ان کہ اندر میری طرح جھلک ہے۔ اس نے دیکھا شیر نے اک دم بھیڑ کو شکار کرلیا اور کھا گیا۔ یہ دیکھ کر اسکہ اندر کا شیر جاگ گیا۔ انسان کا اندر بھی تب جاگتا ہے جب وہ خودشناس لوگوں کی صحبت اختیار کرلیتا ہے۔ وہ کامیاب لوگوں کی صحبت میں رہ کر جان فشانی سے اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے تگ و دو کرتا ہے۔
اور کامیاب لوگوں کہ تجربات کو مشعلِ راہ بناکر ان کہ نقشِ قدم پر چل کر اپنے خوابوں کی تکمیل میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

Address

Zamzama Commercial Lane D. H. A Phase V
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shoes Bazar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shoes Bazar:

Share